ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں /   کانگریس کو اگلے دو ماہ میں نیا صدر ملنے کی توقع؛ مگر کیا کانگریس کااگلا صدر گاندھی خاندان سے نہیں ہوگا ؟

  کانگریس کو اگلے دو ماہ میں نیا صدر ملنے کی توقع؛ مگر کیا کانگریس کااگلا صدر گاندھی خاندان سے نہیں ہوگا ؟

Fri, 07 Jun 2019 23:38:16    S.O. News Service

نئی دہلی 7 جون (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)  راہل گاندھی کے کانگریس صدر کے عہدے سے استعفیٰ واپس لینے سے انکار کرنے کے بعد پارٹی کے نئے صدر کی تلاش تیز ہو گئی ہے۔ حتیٰ کہ گاندھی خاندان نے یہ بھی صاف کیا ہے کہ پرینکا گاندھی بھی صدر نہیں بنیں گی۔ راہل گاندھی نے گزشتہ ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں یہ صاف کر دیا تھا کہ اس میں پرینکا گاندھی کو نہ گھسیٹا جائے۔ وہیں سونیا گاندھی اپنی صحت کو لے کر پہلے ہی پارٹی میں اپنی سرگرمی کم کر چکی ہیں۔ ایسے میں کانگریس کے بڑے ذرائع کے مطابق کانگریس کا اگلا صدر غیر گاندھی ہوگا اور اگلے دو ماہ میں نیا صدر منتخب کر لیا جائے گا۔

اب کانگریس میں ایسے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے جس پر گاندھی خاندان کی بھی خاموش رضامندی ہو اور وہ باقی کانگریس کے قدآور لیڈروں کو قابل قبول ہوں۔ کئی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ اگلا صدر مہاراشٹر سے تعلق رکھتا ہو؛کیونکہ وہاں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں اور ایک مہاراشٹرین صدر پارٹی کے لئے اچھا ہو گا۔ وہیں اب اس بات پر بھی روک لگ گیا ہے کہ راہل گاندھی فی الحال دوبارہ صدر کے عہدے پر واپسی کر سکتے ہیں۔ کانگریس کے پاس ابھی کوئی صدر نہیں ہے اس کی وجہ سے کئی ریاستوں میں پارٹی ڈسپلن کی طرف بڑھ رہی ہے اور اب دہلی میں بیٹھے کانگریس کے بڑے لیڈروں کو لگتا ہے کہ صدر کے عہدے کو لے کر جو بھرم کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اسے فوری طور ختم کرنا ہی پارٹی مفاد میں اچھا ہو گا۔

اس سے پہلے راہل گاندھی نے کہا کہ میں پارلیمنٹ میں ذمہ داری لینے کو تیار ہوں، لیکن پارٹی ایک ماہ کے اندر نیا صدر منتخب کر لے۔واضح ہو کہ راہل گاندھی نے 25 مئی کو ہوئی سی ڈبلیو سی کے اجلاس میں لوک سبھا انتخابات میں راجستھان اور مدھیہ پردیش میں پارٹی کی  ناکامیوں کو لے کر خاص طور پر ناراضگی ظاہر کی تھی۔ ذرائع اور میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق سی ڈبلیو سی کے اجلاس میں راہل گاندھی نے گہلوت، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی کمل ناتھ اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم سمیت کچھ بڑے علاقائی لیڈروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان رہنماؤں نے عزیزوں اور رشتہ داروں کو ٹکٹ دلانے کے لئے ضد کی اور ا ن ہی کو الیکشن جتانے میں لگے رہے اور دوسرے مقامات پر توجہ نہیں دی۔ اسی اجلاس میں شکست کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے گاندھی نے استعفیٰ کی پیشکش کی تھی۔ اگرچہ ورکنگ کمیٹی نے قرارداد منظور کرکے اسے متفقہ طور پر مسترد کر دیاتھا۔


Share: